بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ دنوں عجیب و غریب افواہوں کا بازار گرم رہا ہے؛ جن میں یہ بھی شامل ہے کہ دشمنوں نے حالیہ جنگوں میں مؤمنین کو نقصان پہنچانے کے لئے شیاطین اور جنّات استعمال کئے ہیں! یہ افواہیں رمالی (Geomancy) اور تعویذ نویسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ مل کر معاشرے میں خوف اور پریشانی پیدا کرتی ہیں۔ قرآن اور احادیث کی نصِّ صریح کے مطابق، شیاطین کا اثر، سحر اور جادو کوئی بے بنیاد بات نہیں ہے. شیاطین نے انسانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ستانے کی قسم اٹھائی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنے بندوں کو اس جنگ میں نہتا اور بے بس نہیں چھوڑا۔ مؤمن نہ تو ان واقعیتوں کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی ان سے خوفزدہ اور مفلوج ہوتا ہے۔ ذہنی توازن اور خاندانی حدود کی حفاظت کا تقاضا ہے کہ ہم اس فضا کو پوری طرح سمجھیں اور روحانی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اپنے گرد ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بنائیں اور اجازت نہ دیں کہ وہمیات یا شیاطین ہماری زندگی پر قابو پا لیں۔
مؤمنین کی خفیہ فوج سے لے کر ذمہ داری سے بھاگنے کے جال تک
جب یہ افواہ پھیلتی ہے کہ دشمن شیاطین کا استعمال کر رہے ہیں، تو بہت سے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی قدرت سب سے بالا تر ہے اور کوئی طاقت اس کی اجازت کے بغیر اثر نہیں رکھتی۔ تخلیق کی دنیا میں، جنّی شیاطین کے مقابلے میں مؤمن اور شیعہ جنّات کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے جو محاذِ حق کی خدمت میں ہیں اور مؤمنین کا دفاع کرتے ہیں؛ لہٰذا خوف اور مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔
لیکن بڑا نقصان اس وقت ہوتا ہے جب ہم چھت کی دوسری انتہا کی طرف چلے جاتے ہیں! بہت سے لوگ خود کو الزام سے بچانے کے لئے ہر مشکل، سستی، بد اخلاقی یا بدانتظامی کا الزام برائیوں کی دنیا، طلسم اور جادو پر ڈال دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے یا کوئی معاشی ناکامی کا شکار ہوتا ہے تو جنّات پر الزام لگانے سے پہلے اسے اپنا رویہ درست کرنا چاہئے۔ اپنی غلطیوں کا بوجھ شیاطین پر ڈالنا ایک ایسا جال ہے جو انسان کو نشوونما، ترقی اور اصلاح سے روک دیتا ہے۔
شیاطین کو دفع کرنے اور حفاظتی ڈھال بنانے کے لئے چار قدم
گھر اور ازدواجی تعلقات میں شیطان کی رسائی کے راستے بند کرنے کے لئے، خوف اور بے چینی کے بجائے، یہ چار مستند اور مؤثر روشیں استعمال کریں:
گھر اور خاندان کے لئے حفاظتی قلعہ:
اللہ کی یاد سے دوری شیاطین کے لئے بہترین جولانگاہ ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
"إِنَّ الْبَيْتَ إِذَا كَثُرَ فِيهِ تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ كَثُرَ خَيْرُهُ وَاتَّسَعَ أَهْلُهُ وَأَضَاءَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا تُضِيءُ نُجُومُ السَّمَاءِ لِأَهْلِ الدُّنْيَا؛
جس گھر میں قرآن بہت پڑھا جاتا ہے، اس کی خیر و برکت بڑھ جاتی ہے اور اس گھر کے رہنے والوں کو وسعت و فراخی دی جاتی ہے، اور وہ اہل آسمان کے لئے کو چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے، جس طرح کہ آسمان کے ستارے زمین والوں کے لئے چمکتے دمکتے ہیں۔"
(الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، اصول کافی، ج2، ص610)
امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"الْبَيْتُ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ وَيُذْكَرُ اللَّهُ عَزّ وَجَلّ فِيهِ تَكْثُرُ بَرَكَتُهُ وَتَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَجْهَرُهُ الشَّيَاطِينُ وَيُضِيءُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا تُضِيءُ الْكَوَاكِبُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَا يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ وَلَا يُذْكَرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلٍ فِيهِ تَقِلُّ بَرَكَتُهُ وَتَجْهَرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ؛
جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور اللہ عزّ و جلّ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کی برکتیں بڑھ جاتی ہیں، اور فرشتے اس میں حاضر ہوجاتے ہیں، اور شیاطین اس گھر کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اور وہ گھر آسمان والوں کے لئے چمکتا ہے، جس طرح کہ ستارے چمکتے ہیں زمین والوں کے لئے، اور جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا اور اللہ عزّو جلّ کا ذکر نہیں کیا جاتا اس کی برکتیں گھٹ جاتی ہیں اور فرشتے اس کو چھوڑ جاتے ہیں اور شیاطین اس میں حاضر ہو جاتے ہیں۔" (الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، اصول کافی، ج2، ص610)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: تحریر: ہادی سلیمیان
تکمیل و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ